→ واپس شاعری
غزل
شبِ ہجر
مہوش انجم
شبِ ہجر میں جو چراغ جلا، وہ سحر تلک نہ بجھا کیاشبِ ہجر میں جو چراغ جلا، وہ سحر تلک نہ بجھا کیاتری یاد تھی کہ رفیقِ جاں، سرِ راہ ساتھ چلا کیا
❋
مرے دل کی بات سنے گا کون، اسے لفظ دوں تو کہوں گی میںیہ جو خامشی کا ہے سلسلہ، اسے تُو نے آ کے سنا کیا
❋
کبھی دھوپ تھی کبھی چاندنی، یہی زندگی کا ہے راستہجسے پا لیا وہ چلا گیا، جسے کھو دیا وہ ملا کیا
تبصرے (0)